تخریب کار

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ملک میں توڑ پھوڑ یا انتشار پھیلانے والا۔ 'پنجاب پولیس نے گزشتہ روز چار سرکردہ تخریب کاروں کو سیالکوٹ کے قریب پاکستانی سرحد عبور کرتے ہوئے گرفتار کر لیا۔"      ( ١٩٨٢ء، جنگ، کراچی، ١٤ اکتوبر، ١ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم 'تَخْرِیب' کے ساتھ فارسی زبان سے لاحقۂ فاعل 'کار' لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٩٨٢ء کو 'روزنامہ جنگ کراچی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ملک میں توڑ پھوڑ یا انتشار پھیلانے والا۔ 'پنجاب پولیس نے گزشتہ روز چار سرکردہ تخریب کاروں کو سیالکوٹ کے قریب پاکستانی سرحد عبور کرتے ہوئے گرفتار کر لیا۔"      ( ١٩٨٢ء، جنگ، کراچی، ١٤ اکتوبر، ١ )